The Jihad For Islam And India’s Freedom”,'s image
Zyada Poetry ContestStory3 min read

The Jihad For Islam And India’s Freedom”,

Md Anees QamarMd Anees Qamar August 17, 2022
Share0 Bookmarks 24 Reads0 Likes


مولانا سید حسین احمد مدنی جاں نشین شیخ الہند مولانا محمود الحسن، مکتبِ دیوبند کے ایک عالم ، دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث، جمعیت العلماء ہند اور کانگریس کے رہنما تھے۔

آپ کی ولادت ۱۹ شوال ۱۲۹۶ھ مطابق ۱۸۷۸ء کو قصبہ بانگرا ناؤ میں ہوئی

علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے مدینہ منورہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس طرح ۱۸ سال تک وہیں رہے اور تدریس کرتے رہے۔ پھر ہندوستان واپس آئے اور سیاسی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے۔

(Image source: “The Jihad for Islam and India’s Freedom”, Barbara D. Metcalf)

جب شیخ الہند گرفتار ہوئے تو ان کے ہمراہ ان کے قابل رشک اورتحریک کے سرگرم مولانا مدنی ؒ بھی تھے۔ شیخ الہند نے کہا انگریزی حکومت نے مجھ کو تو مجرم سمجھا ہے، تم تو بے قصور ہو اپنی رہائی کی کوششیں کرو تو مولانا مدنی نے جواب دیا جان تو چلی جائے گی مگر آپکی خدمت سے جدا نہیں ہوں گے

حسین احمد مدنی جب مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے تو بسا بسایا گھر چھوڑ کر نکلے تھے، سفر صرف دو چار دنوں کا تھا مگر تقدیر میں طویل لکھا تھا، گرفتار ہوئےسزا ہوئی۔ پھانسی کی خبریں گرم ہوئیں

ایک دن کئی ہفتوں کی رکی ہوئی ڈاک پہنچی تو ہر خط مین کسی نہ کسی فرد خاندان کی موت کی خبر ملتی

اس طرح ایک ہی وقت میں باپ، جواں سال بچی، ہونہار بیٹے، جانثار بیوی، بیمار والدہ اور دو بھائیوں سمیت سات افراد خاندان کے گزر جانے کی خبر ملی، جن حالات میں حسین احمد مدنی کو یہ اطلاعات موصول ہوئیں انہیں برداشت کرنے کے لۓ پہاڑ کے برابر کلیجا چاہیے تھا۔

حسین احمد مدنی نےسیاست اور تصوف میں بہت سی کتابیں لکھیں۔ مالٹا کی قید کے دوران محض 10 ماہ میں ہی قرآن مجید حفظ کرلیا تھا مولانا محمود الحسن کو اگلے ہی رمضان میں پورا قرآن سنادیا۔ اس دوران میں والد کی وفات اور دیگر کنبہ کی موت کی خبر نے بہت گہرا صدمہ و دکھ پہنچایا۔

حسین احمد مدنی نے 1932 میں سول نافرمانی کی تحریک اور 1942 میں ہندوستان چھوڑو تحریک میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کئی مواقع پر جیل بھی گئے۔

‘متحدہ قومیت اور اسلام’ نام کی کتاب جس میں انہونے جناح کے دو قومی نظریہ کو ٹھکرایا اور تقسیم ہند کی مخالفت کی. انکا ماننا تھا کہ:

”مختلف مذاہب مختلف قومیتوں کی تشکیل نہیں کرتے ہیں اور یہ کہ ہندوستان کی تقسیم کی تجویز مذہبی اعتبار سے جائز نہیں ہے۔ بلکہ، “قومیت علاقے کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسلام کے ماننے والے اور غیر ماننے والے دونوں ایک ہی علاقے اور اسی وجہ سے ایک ہی قومیت کا اشتراک کر سکتے ہیں۔”

کتاب نے دلیل دی کہ قومیں “مشترکہ مادر وطن، زبان یا نسل کی بنیاد پر بنتی ہیں، جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کو ان میں سے ایک یا زیادہ صفات میں مشترک رکھتی ہیں

آپ نے تحریکِ آزادی میں تحریکِ ریشمی رومال، تحریکِ خلافت اور جمعیۃ علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے قائدانہ کردار ادا کیا۔ شیخ الہندؒ کے وصال کے بعد ملّی قیادت کا فریضہ انجام دیا اور ان کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور حصولِ آزادی کی خاطر چار بار قید و بند کی آزمائش سے ہمکنار ہوئے

آپ تقریباً ساڑھے سات سال اسیرِ فرنگ رہے

13 جمادی الاول بمطابق 5 دسمبر 1957ء بروز جمعرات کی بوقت دوپہر بمقام دیوبند، ہندوستان میں آپکی وفات ہوئی ۔



ایم ڈی انیس قمر


No posts

Comments

No posts

No posts

No posts

No posts